اردو شاعری کا خزانہ
وہ آوازیں جو دلوں میں زندہ ہیں
اردو شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں — یہ ایک پوری تہذیب کا دل دھڑکنا ہے۔ غزل، نظم، کافی اور دوہے کی صورت میں ان شاعروں نے ہر دور کے انسان کا درد بیان کیا۔ یہ پوسٹ ان آٹھ آوازوں کا خراجِ تحسین ہے جن کے بغیر اردو ادب کا تصور ادھورا ہے۔
شاعروں سے ملیں
کسی شاعر کے نام پر کلک کریں اور اس کی دنیا میں اتریں
1723 – 1810
میر تقی میر
خدائے سخن
↓ پڑھیں
1877 – 1938
علامہ اقبال
شاعرِ مشرق
↓ پڑھیں
1911 – 1984
فیض احمد فیض
انقلابی شاعر
↓ پڑھیں
1538 – 1599
شاہ حسین
صوفی شاعر
↓ پڑھیں
1925 – 1972
ناصر کاظمی
تنہائی کا شاعر
↓ پڑھیں
1952 – 1994
پروین شاکر
پھول اور خوشبو
↓ پڑھیں
1931 – 2008
احمد فراز
محبت اور بغاوت
↓ پڑھیں
1905 – 1948
اختر شیرانی
رومانی شہزادہ
↓ پڑھیں
م
میر تقی میر
خدائے سخن — ۱۷۲۳ تا ۱۸۱۰
غزلدہلیلکھنؤمغلیہ دورخدائے سخن
میر تقی میر اردو غزل کے سب سے بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آگرہ میں پیدا ہوئے اور دہلی میں پلے بڑھے۔ دہلی کی تباہی اور ہجرت کا درد ان کے ہر شعر میں محسوس ہوتا ہے۔ مرزا غالب نے خود کہا کہ وہ میر کے شاگرد ہیں۔ میر نے اردو کو ایک نئی روح بخشی — سادہ الفاظ میں گہری بات کہنا ان کا امتیاز تھا۔ ان کے چھ دیوان، فارسی کلام اور "ذکرِ میر" ان کی یادگار ہیں۔ میر کی غزل میں عشق، فنا، درد اور تصوف ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔
مشہور شعر
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
کلاسک غزل
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
درد کی غزل
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا
دیکھا اس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا
عشق و فنا
دل کی ویرانی کا کیا ذکر اے میر
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
فلسفۂ حیات
میر کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترکِ اسلام کیا
قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترکِ اسلام کیا
تنہائی
جب میں نہ رہوں گا اس گلشن میں
تجھ کو یاد آئے گا ضرور مجھے
تجھ کو یاد آئے گا ضرور مجھے
حسنِ بیان
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
وصف و ہجر
مجھ کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
ا
علامہ اقبال
شاعرِ مشرق — ۱۸۷۷ تا ۱۹۳۸
فلسفہخودیقومی شاعرسیالکوٹنظمغزلفارسی
سر محمد اقبال کا قلم محض شاعری نہیں تھا — یہ ایک بیدار مغز فلسفی کی آواز تھی جس نے سوئی ہوئی قوم کو جگایا۔ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، جرمنی اور انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی، مگر دل ہمیشہ مشرق کا رہا۔ بالِ جبریل، بانگِ درا، ضربِ کلیم، ارمغانِ حجاز، اسرارِ خودی اور رموزِ بیخودی ان کی شہکار تصانیف ہیں۔ خودی کا فلسفہ، مسلمانانِ ہند کے لیے الگ وطن کا خواب اور انسانِ کامل کا تصور — اقبال کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ ہے۔
بالِ جبریل
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ستاروں کی بات
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
شکوہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
تعلیم
وہ فراقِ یار کا مارا ہوا کافر ہوں میں
جس نے کعبے کو بنایا اپنا بت خانہ نہیں
جس نے کعبے کو بنایا اپنا بت خانہ نہیں
پیامِ شباب
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا جسے گردشِ ایام نے بے دردی سے
کچل ڈالا جسے گردشِ ایام نے بے دردی سے
شاہینِ خودی
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
شمع و پروانہ
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
بانگِ درا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
ف
فیض احمد فیض
انقلابی شاعر — ۱۹۱۱ تا ۱۹۸۴
انقلابرومانسیالکوٹنوبل نامزدلینن انعامنقشِ فریادی
فیض احمد فیض نے محبت اور انقلاب کو ایک ہی سانس میں جیا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی ان کا قلم نہیں رکا — بلکہ قید نے ان کی شاعری کو اور نکھار دیا۔ نقشِ فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ اور میرے دل میرے مسافر ان کے معروف مجموعے ہیں۔ لینن امن انعام اور نوبل پرائز کے لیے نامزدگی ان کی عالمی پہچان ہے۔ ان کی نظم "ہم دیکھیں گے" آج بھی احتجاج کا نغمہ ہے۔
نقشِ فریادی
گلوں میں رنگ بھرے، بادِ نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
محبت اور سیاست
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
آج بازار میں
آج بازارِ میں پابہ جولاں چلو
دستِ افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
دستِ افشاں چلو، مست و رقصاں چلو
مجھ سے پہلی سی محبت
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
دستِ صبا
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
ہم دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
وہ دن جس کا وعدہ ہے جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
زنداں نامہ
یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
وفا
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
ش
شاہ حسین
مادھو لال حسین — ۱۵۳۸ تا ۱۵۹۹
کافیصوفیلاہورپنجابیمیلہ چراغاںمادھو لال
شاہ حسین لاہور کے وہ عظیم صوفی شاعر ہیں جنھوں نے پنجابی کافی کو ایک نئی بلندی دی۔ سولہویں صدی میں لاہور کے ایک عام گھرانے میں پیدا ہوئے مگر ان کا کلام آج بھی لاہور کی روح میں زندہ ہے۔ ان کا آستانہ شالیمار باغ کے قریب ہے جہاں سالانہ میلہ چراغاں منایا جاتا ہے۔ مادھو لال کے ساتھ ان کی دوستی کی داستان اردو ادب کی ایک لازوال کہانی ہے۔ ان کی کافیاں عشقِ حقیقی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔
مشہور کافی
مائے نی مائے میں کنوں آکھاں
دردِ وچھوڑے دا حال نی
دردِ وچھوڑے دا حال نی
صوفیانہ کلام
راہ عشق دا اوکھا ویری
ہر کوئی نئیں لنگھ سکدا
ہر کوئی نئیں لنگھ سکدا
کافی دوم
اکھاں لاواں کھوہ کنارے
پانی تھل دے وچ وچکارے
پانی تھل دے وچ وچکارے
عشقِ الٰہی
حسن حقیقی جلوہ نما ہے
جو کوئی دیکھے حیراں رہ جائے
جو کوئی دیکھے حیراں رہ جائے
فنا فی اللہ
تن من ارپن کر دے یار نوں
تد پاویں گا انمول ملاپ
تد پاویں گا انمول ملاپ
وحدت الوجود
جیویں ندی ملے سمندر وچ
اویں روح ملے پروردگار وچ
اویں روح ملے پروردگار وچ
ن
ناصر کاظمی
تنہائی کا شاعر — ۱۹۲۵ تا ۱۹۷۲
غزللاہورہجرتتنہائیجدید غزلبرگِ نے
ناصر کاظمی نے تقسیمِ ہند کے زخم اور لاہور کی محبت کو غزل کی زبان دی۔ امبالہ سے لاہور آئے تو پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ برگِ نے، پہلی بارش اور دیوان ان کے مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب قسم کی خاموشی ہے — وہ خاموشی جو بہت کچھ کہتی ہے۔ وہ غزل کو ایک نئی سادگی اور گہرائی کے ساتھ پیش کرنے کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔ محض ۴۷ سال کی عمر میں رحلت کرنا اردو ادب کا بڑا نقصان تھا۔
پہلی بارش
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
لاہور کی یاد
شہر میں دھوپ چھٹکتی ہے تو تم یاد آتے ہو
پھول کھلتے ہیں تو تم یاد آتے ہو
پھول کھلتے ہیں تو تم یاد آتے ہو
تنہائی
دل کو رہنے دو جہاں ہے اس جگہ
اپنی آزادی کا سامان کرو
اپنی آزادی کا سامان کرو
ہجرت کا درد
ہم تو سمجھے تھے کہ بچھڑے ہیں زمانے کے لیے
یہ نہ جانا کہ یہ جدائی ہے ہمیشہ کے لیے
یہ نہ جانا کہ یہ جدائی ہے ہمیشہ کے لیے
غزل
خزاں میں ڈھونڈتا ہے دل بہار کا سماں
کہیں تو ہوگا کوئی سبز کونہ باغ میں
کہیں تو ہوگا کوئی سبز کونہ باغ میں
برگِ نے
سنو دل والو! سنو غم کے مارو
محبت کی باتیں کریں کچھ ہم تم
محبت کی باتیں کریں کچھ ہم تم
وقت کا درد
ہوا اور پتوں کی گفتگو سنی
بہت پرانی ہے یہ کہانی ناصر
بہت پرانی ہے یہ کہانی ناصر
جدائی
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
پ
پروین شاکر
پھول اور خوشبو — ۱۹۵۲ تا ۱۹۹۴
غزلنظمکراچیخوشبوصدبرگانکارسول سرونٹ
پروین شاکر نے اردو شاعری میں عورت کی آواز کو وہ اعتبار دیا جو پہلے کبھی نہ ملا تھا۔ کراچی میں پیدا ہوئیں، تعلیم حاصل کی اور کسٹمز سروس میں ملازمت کی۔ مگر جب قلم اٹھایا تو پوری دنیا ٹھہر گئی۔ خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے مجموعے ہیں۔ عشق، درد، عورت کی نفسیات اور ایک ادھورا رشتہ — یہ پروین کی شاعری کے مرکزی موضوعات ہیں۔ محض ۴۲ سال کی عمر میں حادثے میں رحلت اردو ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
خوشبو
وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
صدبرگ
میں نے سوچا تھا ترے ساتھ چلوں گی لیکن
تو مسافر تھا مری راہ کا راہی نہ تھا
تو مسافر تھا مری راہ کا راہی نہ تھا
عشق کی بات
تمہارے بعد بھی موسم کا سلسلہ جاری رہا
بہاریں آئیں مگر دل نے انھیں تسلیم نہ کیا
بہاریں آئیں مگر دل نے انھیں تسلیم نہ کیا
خودکلامی
میں تو جو کچھ ہوں وہی کہتی ہوں
تم کہاں سمجھے میری بات ابھی
تم کہاں سمجھے میری بات ابھی
انکار
جب بھی آئی ہے محبت مرے در پر
میں نے کچھ دل کو سمجھایا کچھ ٹھکرایا
میں نے کچھ دل کو سمجھایا کچھ ٹھکرایا
درد کا اقرار
اپنے دکھ کو میں نے زنجیر بنا کر پہنا
یوں ہی خود کو قید میں رکھا خود ہی رکھا
یوں ہی خود کو قید میں رکھا خود ہی رکھا
ماہِ تمام
رات کے اس پہر میں جب چاند ڈھلتا ہے
تمہاری یاد کا دریا امنڈ کر آتا ہے
تمہاری یاد کا دریا امنڈ کر آتا ہے
تنہائی
کتنا تنہا ہے دل مرا پروین
سب ہیں لیکن کوئی اپنا نہیں
سب ہیں لیکن کوئی اپنا نہیں
ف
احمد فراز
محبت اور بغاوت — ۱۹۳۱ تا ۲۰۰۸
غزلکوہاٹانقلابرومانہلالِ امتیازتنہا تنہا
احمد فراز کا نام لیتے ہی دل میں ایک دھڑکن اٹھتی ہے۔ کوہاٹ میں پیدا ہوئے اور اردو غزل کو اپنا مسکن بنا لیا۔ ضیاء الحق کی آمریت کے دور میں حکومتی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی، وطن چھوڑا مگر اپنا کلام نہیں چھوڑا۔ تنہا تنہا، نایاب، بے آواز گلی کوچوں میں اور شبِ رفتہ ان کے معروف مجموعے ہیں۔ "رنجش ہی سہی" اور "محبت" ان کی وہ غزلیں ہیں جن پر موسیقی نے جادو جگایا اور نسل در نسل یاد رہیں۔
رنجش ہی سہی
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
دستِ صبا
میں تجھ سے کچھ نہ کہوں یہ مری وفا ہے فراز
تو سمجھ نہ پائے یہ تیری بے وفائی ہے
تو سمجھ نہ پائے یہ تیری بے وفائی ہے
محبت
اب کے ملے تو دوستی ایسی نبھائیں ہم
جیسے کبھی دوئی نہ تھی جیسے دو ہیں ہی نہیں
جیسے کبھی دوئی نہ تھی جیسے دو ہیں ہی نہیں
بغاوت
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
تنہا تنہا
یہ محبت جو ہے اک سوچ سی رہتی ہے
دل میں اک آس جو ادھوری سی لگتی ہے
دل میں اک آس جو ادھوری سی لگتی ہے
شبِ رفتہ
بے وجہ نہیں روتا آنکھوں کا ساگر
کوئی درد ہے جو دل میں سمندر کر جاتا ہے
کوئی درد ہے جو دل میں سمندر کر جاتا ہے
وطن کا درد
یہ سرزمین ہے میری یہ آسمان میرا
چاہے کوئی کہے نہ کہے میں اس کا جاں ہوں
چاہے کوئی کہے نہ کہے میں اس کا جاں ہوں
یاد
وہ لوگ بھول گئے ہیں مجھے زمانے میں
جنہیں میں یاد کیا کرتا تھا دیوانے میں
جنہیں میں یاد کیا کرتا تھا دیوانے میں
ا
اختر شیرانی
رومانی شاعری کا شہزادہ — ۱۹۰۵ تا ۱۹۴۸
رومانیٹونکنظممحبت نامےخوابوں کا شاعر
اختر شیرانی کو اردو کے رومانی شاعر کا تاج دیا جاتا ہے۔ راجستھان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے محبت کو خوابوں، رنگوں اور خوشبوؤں کی زبان میں بیان کیا۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی معصومیت ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔ ارمغانِ شیرانی اور نغماتِ شیرانی ان کے معروف مجموعے ہیں۔ بدقسمتی سے انھوں نے بہت کم عمری میں دنیا کو الوداع کہا اور اردو ادب ایک لافانی آواز سے محروم ہو گیا۔
رومانی نظم
آ گئی یاد تری تاروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں
کھل گئے گیت پرانے میری تنہائی میں
کھل گئے گیت پرانے میری تنہائی میں
مشہور شعر
تمھاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں
کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں
خواب اور حقیقت
یہ خواب ہے یہ حسن ہے یہ آرزو ہے کیا
مجھے نہیں پتہ مگر دل میں ہے کچھ خاص
مجھے نہیں پتہ مگر دل میں ہے کچھ خاص
محبت کا رنگ
چمن میں جب کلی کھلتی ہے ناز کے ساتھ
تمہاری یاد آتی ہے ہر راز کے ساتھ
تمہاری یاد آتی ہے ہر راز کے ساتھ
ارمغانِ شیرانی
شبنم میں بھیگی کلیوں کا احساس جب ہوا
لگا کہ تم قریب ہو اور پاس جب ہوا
لگا کہ تم قریب ہو اور پاس جب ہوا
رومانی غزل
محبت کے پھول جب کھلتے ہیں دل کے باغ میں
ہر رات چاند بن کے آتی ہو تم چراغ میں
ہر رات چاند بن کے آتی ہو تم چراغ میں
یادِ ماضی
وہ دن گئے وہ پل گئے وہ خواب بھی گئے
مگر دل سے تمہاری یاد کب کہاں گئے
مگر دل سے تمہاری یاد کب کہاں گئے
نغماتِ شیرانی
زندگی کیا ہے ایک خوابِ بہار اختر
جو گزر جائے تو بس یاد رہے تھوڑی سی
جو گزر جائے تو بس یاد رہے تھوڑی سی